لکھنؤ، 25 مارچ (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے اتوار کو اپنے ایک ٹویٹ کے ذریعے وزیر اعظم نریندر مودی اور یوپی کی یوگی حکومت پر حملہ کیا۔اس ٹویٹ میں پرینکا نے اتر پردیش میں گنا کسانوں کے بقائے کی ادائیگی کا مسئلہ کا ذکر کیا۔اس کے تھوڑی ہی دیر بعد یوپی کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے جوابی حملہ کرتے ہوئے اپنی ٹویٹس میں پرینکا سے سوال پوچھ لیا،یوگی نے ایس پی اور بی ایس پی کو بھی نشانہ بنایا۔پرینکا نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل سے کئے اس ٹویٹ میں لکھا ہے کہ گنا کسانوں کے خاندان دن رات محنت کرتے ہیں،مگر اتر پردیش کی حکومت ان کی ادائیگی کا بھی ذمہ نہیں لیتی،کسانوں کا 10000 کروڑ بقایا مطلب ان کے بچوں کی تعلیم، خوراک، صحت اور اگلی فصل سب کچھ ٹھپ ہو جاتا ہے،یہ چوکیدار صرف امیروں کی ڈیوٹی کرتے ہیں، غریبوں کی انہیں پرواہ نہیں۔
اس کے جواب میں یوگی نے دو ٹویٹ کئے۔پہلے ٹویٹ میں انہوں نے کہاکہ ہماری حکومت جب سے اقتدار میں آئی ہے ہم نے زیر التواء 57800 کروڑ کا چھڑی بقایا ادا کیا،یہ رقم کئی ریاستوں کے بجٹ سے بھی زیادہ ہے۔پچھلی ایس پی۔بی ایس پی حکومتوں نے گنا کسانوں کے لئے کچھ نہیں کیا جس سے کسان بھوک کا شکار ہو رہا تھا۔ دوسرے ٹوئٹس میں یوگی نے پوچھا کہ کسانوں کے یہ نام نہاد چھپنے تب کہاں تھے، جب 2012 سے 2017 تک کسان بھوک کے دہانے پر تھا،ان کی نیند اب کیوں کھلی ہے؟ ریاست کا چھڑی رقبہ ابھی 22 فیصد بڑھ کر 28 ملین یکٹر ہے اور بند پڑی کئی چینی ملوں کو بھی ریاست میں دوبارہ شروع کیا گیا ہے،کسان اب پرسکون ہیں۔